پیر، 5 نومبر، 2018

آسیہ مسیح فیصلہ کے خلاف دھرنے میں توڑ پھوڑ کرنے میں کون ملوث نکلا۔ اہم انکشاف


   
دنیا  کی تاریخ میں دوہی  ایسے ممالک وجود میں آئے  جو کسی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئے۔ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل۔ پاکستان اسلام کے نام پر جبکہ  اسرائیل   یہودیت کے نام پر۔لہٰذا  بطور ایک اسلامی ریاست پاکستان کے آئین  میں عقیدہ ِ رسالت وختمِ نبوت ﷺ  ایک بنیادی اساس کا حامل ہے۔ اور محبتِ رسول ﷺ ایک مسلمان کا بنیادی اثاثہ ہے۔اور ایک مسلمان چاہے جتنا بھی گناہ گار ہو توہینِ رسالت ﷺ برداشت نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ صرف امت محمد ﷺ کا خاصہ ہے کہ  وہ نہ صرف اپنے نبیﷺ سے ایمانی لگاؤ رکھتی ہے بلکہ ایک جذبات کے رشتے سے بھی منسلک ہے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب آتے ہیں آسیہ بی بی توہینِ رسالت ؐ  کیس کی جانب جو کہ ایک حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے جبکہ بہت سے تضادات نے اس کو اور بھی مشکوک بنا دیا ہے۔جس کی وجہ سے ایک عام مسلما ن کے لیے یہ فیصلہ کرنا  بہت مشکل ہے کہ آیا کون حق پر ہے۔ دوسری جانب  حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملکی حالات میں ایک بھونچال برپا کر دیا ہے۔جس سے ایک بے یقینی کی سی کیفیت نے جنم لے لیا ہے۔
ملک میں دھرنوں اور احتجاج نے جہاں کاروبارِ زندگی کو معطل کیا وہیں جلاؤ گھیراؤ نے  اربوں کا نقصان کیا۔  گویا سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ دوسری جانب ایک طبقہ وہ ہے جس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور  اس فیصلے کے خلاف   ہونے والے احتجاج    کو  طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جس کے جواب میں ججوں اور فوجی جرنیلوں کے واجب القتل تک کے فتاویٰ جاری ہوئے۔
اس صورت حال میں ایک وہ طبقہ سامنے آیا جو کہ آسیہ کو واجب القتل سمجھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جس کا اصرار تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہے اور اس کو برقرار رکھنا چاہیے ۔ حکومت کی جانب سے بھی نا عاقبت اندیشی کی مثال دیکھیں کہ یہ اعلان کر دیا گیا کہ یہ ایک چھوٹا سا طبقہ ہے لہذا ہم حکومت کی رٹ قائم کریں گے۔جس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
جس کے نتیجے میں ایک ملک گیر احتجاج نے شدت سے جنم لے لیا۔ حرمتِ رسول کوئی چھوٹا سا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دین ایمان کا مسئلہ ہے اور احتجاج یقیناً ایک فطری عمل تھا۔
اس احتجاج میں شدت آنے سے بہت سے شر پسند عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور حسب معمول املاک کو نقصان پہنچایا۔ یہ وہی عناصر ہیں جو گزشتہ تاریخ میں ہونےوالے احتجاج اورتحریکوں میں امن امان اوراملاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ ظاہر ہے عام عوام بھی ان کے ہاتھوں استعمال ہوتی آئی ہے اور اس بار بھی ہوئی۔
افسوس کی بات ہے کہ وہ طبقہ جو خود کو لبرل اور پڑھا لکھا سمجھتا ہے اس نے انہی واقعات کو بنیاد بنا کر علماء اور مذہبی طبقے کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ جو کہ حقائق کے با لکل منافی ہے۔ بلکہ ملکی تاریخ سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے. زیادہ دور مت جائیے بینظیر کے قتل کے بعد 3 دن تو جیسے حکومت کا وجود ہی ختم ہو گیا ہو۔ اےٹی ایم تک لوٹ لی گئیں۔ ٹرینیں جلا دی گئیں۔ اسی طرح سیاسی تحریکوں میں دیکھیں تو سپریم کورٹ پر چڑھائی، پی ٹی وی پر حملہ اورشہر بند کرنے تک کے اقدامات نے ملک کو کتنا نقصان پہنچایا۔ ان اقدامات کی کوئی حمایت نہیں کرتا اور نہ ان عناصر کا کسی تحریک سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر توہینِ رسالت کے معاملہ میں بھی جو لوگ نکلے وہ بھی ایمانی جذبہ سے مغلوب ہو کر نکلے اور حسبِ سابق جیسے یہ تحریک زور پکڑتی گئی حالات قابو سے باہر ہوتے گئے۔ آسیہ مسیح کا جو بھی فیصلہ آتا ہے یہ ایک الگ داستان ہے جسے کسی دوسرے موضوع میں زیرِ بحث لائیں گے مگر یہ طے ہے کہ مغربی میڈیا بھی اس کیس میں گہری دلچسپی رکھتا ہے جس کا ثبوت مغرب کا اس فیصلے پر رد عمل ہے۔
بہر حال عرض کرنے کا مقصد ہے کہ ناموس رسالت کے لیے احتجاج کو ان فتنہ پرور سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر تنقید اور مذاق بنانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کہیں انجانے میں علماء اور مذہب کا مذاق کو نہیں اڑا رہے۔ اختلاف ہر انسان کا حق ہے مگر اپنے اختلاف کو مخالفت میں مت تبدیل کیجیے۔
علماء اور تمام مسلمانو سے بھی گزارش ہے کہ ان شر پسند عناصر کو بے نقاب کریں کیونکہ یہی عناصر ناموسِ رسالت کے پاکیزہ جذبہ لیے تحریک کو تار تار کر رہے ہیں۔ اور آخر میں حکومت کو چاہئیے کے اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اس کو ڈنڈے اور بیرونی دباؤ کی بجائے علماء کی باہمی مشاورت اور علمی طریقے سے حل کیا جائے۔ یہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دین ایمان کا مسئلہ ہے اس لیے سب کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ امت پہلے ہی اس معاملے زخمی ہے اور نہ جانے کتنے لوگ جان بھی گنوا بیٹھے ہیں اس لیے ان کے زخموں پر نمک مت چھڑکیے۔

asia masih, asia bibi, cheif justice, tlp, khadim rizvi,mumtaz qadri, lahore dharna, blasphemy, saqib nisar, afzal qadri 

اتوار، 4 نومبر، 2018

بے نماز کے متعلق آئمہ اسلام کے نظریات


بے نماز کے متعلق آئمہ اسلام کے نظریات کو *صاحبِ معالم السنن* نے اختصار کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا ھے۔

👈 *امام مالک و شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کا نظریہ:*
*((فقال مالک و الشافعی یقتل تارک الصلوۃ))*
ترجمہ:امام مالک و شافعی رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ھیں کہ بے نماز کو قتل کر دیا جائے۔
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *امام مکحول، حماد بن زید،  وکیع بن جرّاح رحمۃ اللہ علیھم کا نظریہ:*
*((و قال مکحول یستتاب فان تاب و الاقتل و الیہ ذھب حماد بن زید و وکیع بن الجرّاح))*
ترجمہ:مکحول فرماتے ھیں بے نماز کو توبہ کرنے کے لئے کہا جائے اگر امادہ نہ ھو تو قتل کر دیا جائے حماد بن زید اور وکیع رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذھب ھے۔
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتوٰی:*
*((و قال ابوحنیفۃ لا یقتل و لکن یضرب و یحبس))*
ترجمہ:امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں قتل نہ کیا جائے جسمانی سزا دی جائے اور قید کر دیا جائے۔
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *امام زھری رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ:*
*((و عن الزھری انہ قال انما ھو فاسق یضرب ضربًا مبرحا و یسجن))*
ترجمہ:امام زھری فرماتے ھیں یہ فاسق ھے جسمانی سزا دینی چاھئے جس سے ھڈی نہ ٹوٹے اور جیل بھیج دینا چاھئے۔
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *ابراھیم نخعی، ایوب سختیانی، عبداللہ بن مبارک اور اسحاق بن راھویہ رحمۃ اللہ علیھم کا مذھب:*
*((و قال جماعۃ من العلماء تارک الصلوۃ حتی یخرج وقتھا لغیر عذر کافر.*
*ھذا قول ابراھیم النخعی و ایوب و عبداللہ بن مبارک و احمد و اسحاق))*
ترجمہ: علماء کی ایک جماعت کا مؤقف ھے کہ بلا عذر نماز ترک کرنے والا کافر ھے، ابراھیم نخعی، ایوب، عبداللہ بن مبارک اور احمد اسحاق رحمۃ اللہ علیھم کا بھی یہی مذھب ھے(یعنی بلا عذر نماز کا تارک کافر ھے)
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتوٰی:*
*((و قال احمد لا یکفر احد بزنب الا تارک الصلوۃ عمدا و احتجو بخبر جابر رضی اللہ عنہ لیس بین العبد و الکفر الا ترک الصلوۃ))*
ترجمہ: امام احمد فرماتے ھیں کہ نماز کے علاوہ کسی گناہ سے انسان کافر نہیں ھوتا اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث سے اس کی تائید ھوتی ھے کہ ترکِ نماز انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ھے۔
[معالم السنن، کتاب الصلوۃ، صفحہ 150]

👈 *امام ابن قیّم رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ:*
امام ابن قیّم رحمۃ اللہ علیہ نے تارکِ صلوۃ کے حکم پر ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا۔
جس میں لکھا ھے کہ:
*((لا یختلف المسلمون ان ترک الصلوۃ المفروضہ عمدا من اعظم الذنوب و اکبر الکبائر و ان اثمہ ثم اللہ اعظم من اثم قتل النفس و اخذ الاموال و من اثم الزنا و السرقۃ و شرب الخمر))*
ترجمہ: اس بات پر تمام اھلِ اسلام کا اتفاق ھے کہ فرض نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنا بہت بڑے گناھوں میں سے ایک گناہ ھے بلکہ *اکبر الکبائر*(یعنی کبیرہ گناھوں میں سے ایک بڑا گناہ) ھے اور اس کا گناہ تمام بڑے گناھوں میں سے مثلاً قتلِ نفس، ناحق مال چھیننے، زنا اور چوری کرنے اور شراب نوشی سے بھی زیادہ ھے۔
[الصلوۃ و احکام تارکھا(عشرۃ مسائل تتعلق بالصلوۃ الاولیٰ ذنب ترک الصلوۃ اعظم من القتل و الزنا)


بدھ، 24 اکتوبر، 2018

عمران خان نے ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سرمایہ کاری کانفرنس میں کیا ہوا۔


ایک بہت ہی معروف ٹی وی اینکر فرما رہے تھے ک عمران خان نے پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سعودی عرب میں منعقدہ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کے مسائل کو زیرِبحث لے کر آئے ۔ جہاں ایک عالمی فورم پر انہوں نے اس بات کو واضح طور تسلیم کیا کہ پاکستان میں کرپشن عروج پر ہے۔ سیاستدانو ں نے ملک کو لوٹا ہے۔ ملک کو اس وقت قرض کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس بھی شاید جائیں. یہ وہ باتیں ہیں جو ایک عالمی فورم پر شاید بیان نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اس موقع پر پاکستان کے مثبت پہلو اجاگر کرنے چاہیے تھے. منفی پہلو بیان کرنے سے فائدہ کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے. اس موقع پر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دینا تھی۔
لیکن وزیراعظم پاکستان اس موقع پر سربراہ مملکت کی بجائے قائد حزب اختلاف کے روپ میں نظر آئےگویا موجودہ حکومت سے مایوس ہوں۔
ایک لمحے کے لیے تو موصوف کی ان باتوں میں وزن نظر آتا ہے لیکن زرا غور کریں تو یہ اعتراض باطل ہے۔ اس وقت عالمی میڈیا ہر بات سے باخبر ہے۔گزشتہ حکومتوں کے کرپشن اسکینڈلز کس سے پوشیدہ ہیں۔ اور اس بات سے سرمایہ کاروں سے زیادہ کون واقف ہو گا کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ کیا عوامل تھے۔ آج ان میگا کرپشن سکینڈلز کے سامنے آنے کے بعد جہاں عدالتوں پر اعتماد میں اضافہ ہوا وہاں سرمایہ کار بھی قوانین میں نرمی کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم کا گزشتہ نقائص بیان کرنے کا مقصد ملک کی معیشت کا بھیانک رخ دکھانا نہیں تھا بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا تھا جو سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ تھے اور ساتھ میں اس عزم کا اظہار تھا کہ حکومت ان مسائل کا ادراک کر کے ان پر قابو پانے کے اقدامات کرے گی۔ یہ عزم گویا آنے والے دنوں میں سرمایہ کار برادری کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگی۔ جس کے نتائج اگلے ہی روز برآمد ہونا شروع ہو گئے جب کہ ایس ای 100 انڈیکس نے 39000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر لی۔ روپےکی قدر بھی استحکام کی جانب گامزن ہوئی۔ امید ہے کہ مستقبل قریب میں معیشت بھی استحکام کی جانب رواں دواں رہے گی۔
imran khan, pti, prime minister, saudi arab, investment conference 2018

ہفتہ، 20 اکتوبر، 2018

کتاس راج تالاب کی گہرائی لا محدود؟؟ جنرل الیگزینڈر کن نگھم کی تحقیق کے مطابق کتنی گہرائی ہے؟؟

کٹاس راج مندر ضلع چکوال کے قریب چو آ سیدن شاه شہر کے پاس موجود ہے۔کلر کہار سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہمیں وہ تاریخی ورثہ دیکھنے کو ملتا ہے جو ہندو بادشاہوں کے دور کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کٹاس سطح سمندر سے 2200فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کا اصل نام ’کٹکشا‘ ہے اور سنسکرت میں اس کا مطلب ’آنسووں کی لڑی‘ ہے۔ ’مہابھارت‘ (سنسکرت مثنوی) میں اسے ’کائنات کا تالاب‘ کہا گیا ہے۔ کٹاس ہندووں کے سنہا سلطنت کا دارالحکومت بھی رہا۔کٹاس راج کو ہندووں کے خدا شیوا کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ جگہ آج بھی ہندووں کے لیے بہت مقدس ہے اور وہ اکثر اوقات یہاں نہ صرف پاکستان سے بلکہ دوسرے ممالک سے سفر کر کے آتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ البیرونی نے بھی کچھ وقت کٹاس میں سنسکرت سیکھنے میں گزاری اور یہاں ’زبانوں کی یونیورسٹی‘ بھی موجود ہوا کرتی تھی۔ البیرونی کے یہاں ٹھہرنے کے ثبوت ہمیں ’کتاب الہند‘ میں ملتے ہیں۔ اس دوران البیرونی نے مختلف تجربات بھی کیے اور زمین کے رداس کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کٹاس دوسرے عقیدہ کے لوگوں کے لیے بھی مقدس ہے۔ ’پارس ناتھ جوگی‘ نے بھی اسی جگہ پر اپنی آخری سانسیں کاٹیں اور اس کی یادگار آج بھی کٹاس کے ساتھ موجود سرکاری سکول کے احاطے میں ہے۔ جگت گرو نانک نے بھی اس جگہ ’ویساکھ‘ کے دن قدم رکھا اور یہ جگہ’نانک نواس‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف صوفیوں اور جوگیوں کی بھی آماج گاہ رہی۔
کٹاس راج کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ”مہابھارت“ کے کردار پانڈوووں کے یہاں آنے کے بعد انہوں نے ست گڑھ کے مندر تعمیر کروائے۔ پانڈووں نے جلاوطنی کے ۲۱ سال یہاں گزارے۔ ست گڑھ اور سات مندروں کو وہ جگہ کہا گیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے بارہ سال گزارے۔
\
کٹاس کو ہندو خدا ’شیوا‘ کی پیدائش کی جگہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ برہمنوں کی کہانیوں سے ہمیں یہ جگہ ’شیوا‘ کے نام سے منسوب نظر آتی ہے اور شیوا اپنی بیوی ’ستی‘ کی موت کے غم میں اتنا رویا کہ آنسووں کی بارش کی صورت میں تالاب بن گیا جو کہ آج بھی کٹاس میں موجود ہے اور لوگ اسے ’مقدس تالاب ‘کہتے ہیں چونکہ یہ شیوا کے آنسووں سے بنا تھا۔ شیوا کی دائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو پشکار (راجستھان )میں گرا اور بڑا تالاب بن گیا اور بائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو کٹاس میں گر کر تالاب میں تبدیل ہو گیا۔
ہندوووں کی سب سے پرانی کتاب ’رگ وید‘ کٹاس میں لکھی گئی اور یہ اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ہے جو دنیا کی بڑی نظموں میں سے ایک ہے جسے ’مہابھارت ‘ کہتے ہیں۔ یہ کتاب تقریباً 300 قبل مسیح میں لکھی گئی لیکن کچھ ہندو سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ 1300 قبل مسیح لکھی گئی۔ اس کتاب میں کٹاس کے متعلق بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ’رگ وید‘ کی پہلی کتاب میں کہا گیا ہے کہ کٹاس کے تالاب کے نیچے ایک چھوٹا دریا بہتا تھا۔ جبکہ برطانوی آرکیالوجسٹ کا ماننا ہے کہ یہ تالاب قدرتی چشموں کی وجہ سے بنا۔ ’تذکرہ جہلم‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تالاب انسان کا بنایا ہوا ہے جو کہ پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کی لمبائی 122فٹ ہے اس کے ارد گرد 19فٹ کی لمبی اور مضبوط دیوار ہے۔ جنرل الیگزینڈر کن نگھم کے مطابق، جو کہ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل (1872-73) تھے، اس تالاب کی گہرائی 23 فٹ ہے۔ جب کہ ہندووں کے مطابق  اس تالاب کی گہرائی لا محدود ہے۔ گرجاکھ کی تاریخ میں  ہے کہ اس تالاب کے نیچے پانی کی بہت سی ندیاں بہتی ہیں۔

یہاں پندرہ دن کا تہوار اماوس کے دنوں میں ہر سال منایا جاتا ہے اور ہندو برادری یہاں آ کر اپنے خدا شیوا کو نذرانہ پیش کرتی ہے یہ جگہ چونکہ ہندو برادری کے لیے برصغیر میں مقدس مانی جاتی ہے تو ہندو یاتری تہوار کے دنوں میں پوجا کرنے کے ساتھ مختلف ناچ اور بھجن گاتے ہیں جو ایک طرح سے شیوا کی شادی کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے علاوہ یاتری ’مقدس تالاب‘ میں نہا کر اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔
بدھ مت کے زوال کے بعد کٹاس میں ہندو شاہی دور عروج پر پہنچا۔ کٹاس راج اور بہت سارے دوسرے مندر اور قلعے تعمیر کیے گئے۔ ست گڑھ سے مشرق کی جانب تقریباً 40 میٹر کے فاصلے پر بدھ سٹوپا نظر آتا ہے۔ الیگزنڈر کن نگھم کے مطابق یہ سٹوپا 200 فٹ بلند ہے اور اس کے گرد پانی کے چشمے تھے موجودہ سٹوپا کی کھدائی سے زمین سے تقریباً دو میٹر نیچے پتھر کے تراشے ہوئے چوکور ٹکڑوں کا خوبصورت فرش ملا اور اس سٹوپہ کی بلندی 4 میٹر ہے جبکہ لمبائی اور چوڑائی 12x10 میٹر ہے۔ اس سٹوپا سے 16پتھر کی تہیں بھی ملی ہیں اور اس کے جنوب کی سمت پہاڑی پر بدھ مت کی خانقاہ کے آثار بھی ہیں۔
ست گڑھ کا لفظی مطلب ’سات گھر‘ ہے۔ کٹاس راج کے یہ مندر پہاڑی چوٹی پر واقع ہیں ان تک رسائی کے لیے طویل سیڑھیاں بنائی گئی ہیں جب کہ اکثر جگہ پر پرانی سیڑھیوں کے آثار بھی ہیں۔
اس مندر سے بہت سی دیو مالائیں وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر پانڈَوَ بھائیوں نے اپنی جلا وطنی کے 14 برسوں میں سے چار برس یہاں گزارے تھے۔ کہاجاتا ہے کہ یہاں یڈھشٹر کے بھائیوں کو ایک یَکشَ (عِفریت) نے مار ڈالا تھا لیکن اس نے اپنی دانش کے بل پر اس نے یکش کو شکست دے کر اپنے بھائی زندہ کر لیے تھے۔ ایک اور کہانی یہ ہے کہ جب شیوجی مہاراج کی پتنی ستی (پاروتی دیوی) کو موت نے آ لیا تو وہ اتنا روئے کہ اس سے دو تالاب بن گئے، ایک اجمیر میں اور دوسرا کٹاکشا میں، جو اب کٹاس کہلاتا ہے۔ کٹاکشا کے معنی ہیں برستی آنکھیں۔ ایک اور روایت کے مطابق دوسرا تالاب اجمیر نہیں، نینی تال میں بنا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیوجی کی پتنی نہیں بل کہ ان کا گھوڑا مرا تھا جس پر وہ  بے پناہ روئے۔
یہاں سے ہندو شاہیہ عہد (650-9500 عیسوی) کے دو مندروں کے آثار بھی ملے ہیں۔ ہندو اور دیگر غیر مسلم عقائد کے لوگوں کے لیے یہ ایک مقدس مقام ہے، ہندو عقیدے کے مطابق بعض مخصوص تہواروں پر اس کے تالاب میں غسل کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں، یہاں کے ہندوؤں نے تقسیم کے موقع پر نقل مکانی نہیں کی۔ تاحال یہ ہی سمجھا جاتا رہا کہ اس تالاب کی گہرائی پاتال تک ہے۔ اس مندر کے نواح میں ایک نا معقول اور بے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی گئی سیمنٹ فیکٹریوں کے باعث اس تالاب کا پانی کم ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان اس مقام کو عالمی ورثے کے لیے نام زد کرانے پر غور کر رہی ہے، اللّٰہ جانے کب تک غور و خوض سے برآمد ہوگی۔
katas raj, chakwal, tamples, bestway cement, kallar kahar, choa saidan shah.

منگل، 16 اکتوبر، 2018

آئی ایم ایف کے پاس جانا کیوں ناگزیر ۔ وجہ سامنے آگئی۔

  آئی ایم ایف سے قرض لینا اگرچہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو آج کی تاریخ میں امریکہ جیسا ملک بھی قرضوں کے بار تلے دبا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض اگرچہ کثیر المدت معاشی نقصان کی وجہ بنتا ہے مگر یہ قرض لینا  اکثر اوقات ناگزیر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے فوائد وقتی طور پر حاصل ہو جاتے ہیں ورنہ ملکی معیشت مزید بحران کا شکار رہتی ہے ۔ گزشتہ حکومتوں کی جانب سے قرضوں کی ایک لمبی  فہرست ہے۔ اگرچہ پاکستان میں نئی حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ قرض نہیں لیں گے لیکن ان کو بھی بالآخر آئی ایم ایف کی چھتری تلاش کرنی پڑی۔ اگرچہ کوئی بھی اس عمل کی حمایت نہیں کرتا مگر اس وقت آئی ایم ایف کے پاس جانا کیوں ناگزیر ہے اس کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرض کا حصول غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو مستحکم کرتا ہے  اور بین الاقوامی درآمدات کے اخراجات کو استحکام دیتا ہے۔اسی طرح تجارتی پابندیوں میں نرمی سے کوتجارتی برادری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو کہ معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ نجکاری کے عمل سے اداروں  میں وسائل کے  درست استعمال اور معاشی کارکردگی  میں بہتری آنے سے میکرو اکنامکس  بہتر ہوتی ہے جس کی وجہ سےحکومتی اخراجات میں کمی اور بجٹ خسارہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
IMF کے پروگراموں میں نئےٹیکس کا کلچر، حکومت کی غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے ریونیو کو بڑھانا اور توانائی بحران جیسے مسائل پہ قابو پاکرانکم سپورٹ پروگرام کے اہداف کا تعین جیسے پروگرام شامل ہیں جن کا مقصد   ملکی خزانے کو بہتر بنانا ہوتا ہے تاکہ فلاحی سرگرمیوں کو پورا کیا جا سکے۔
فوری فوائد میں سرمائے کی فراہمی روپے کی ترسیل اور   ملک کے ڈیفالٹ خطرے کو کم کرکےکریڈٹ کی درجہ بندی میں بہتری ہوتی ہے۔جس سے غیر ملکی سرمایہ میں اجافہ ہوتا ہےجس کے نتیجہ میں روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے۔ کرنسی مستحکم ہونے کے نتیجہ میں سرمایہ داروں کا اعتماد  ملکی معیشت پر بہتر ہوتا ہے  جو کہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کی نوید ہوتا ہے۔اس طرح ملکی آمدنی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ بصورتِ دیگر  سرمایہ دار اپنا سرمایہ نکال لیتے ہیں جس کی وجہ سے روپے کی قدر گرنا شروع ہو جاتی ہے۔
            لیکن دوسری جانب ان قرضوں کے بھیانک نتائج بھی ہیں جیسے کہ پالیسی کی شرح  بشمول بینکوں کے اخراجات میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر بے روزگاری میں اضافہ کیونکہ بہت سےبینک اور ادارے، فیکٹریاں اپنے اخراجات کوکم کرنے کے لئے  افرادی قوت کو کم کرنے لگ جاتے ہیں یا   چھوٹے مالکان اپنی فیکٹریاں ہی بند کر دیتے  ہیں  جس کے نتیجہ میں ان سے وابستہ  بہت سے افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ اور یوں غربت کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
asad umar, imran khan, imf, loan, pakistan economy



اتوار، 14 اکتوبر، 2018

قائدِ اعظم کی حقیقی سالگرہ 25دسمبر نہیں بلکہ۔۔۔۔۔


بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جن کا یومِ پیدائش قومی سطح پر ہر سال 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ لیکن بہت سے تاریخی حقائق  اس کے بر عکس ہیں ۔ جناح کی ایک دوست اور بائیوگرافر غلام علی الانا،نے اپنی کتاب Quaid-e-Azam Jinnah: a story of nation مین مختلف تاریخی حوالوں اس کے بارے میں لکھا ہے۔دراصل یہ کتاب  تو  انگریزی میں لکھی مگر یہ کتاب معروف شاعر رئیس امرووی نے اردو میں ترجمہ کی. دونوں ورژن فیروززسنز نے شائع کیے ہیں۔ اسی کتاب کےاردو ورژن کے صفحہ 19 پر، الانا نے کراچی میں سندھ مدرسہ الاسلام  میں داخلہ رجسٹریشن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جناح 4 جولائی، 1887 کو سکول میں داخل ہوئے۔ اس ریکارڈ میں ان کا  نام محمد علی جناح بھائی درج ہے اورگھر کا پتہ  کراچی۔ یہاں جناح  کی پیدائش کی تاریخ کا ذکر نہیں  ہے۔ دیگر اندراج مندرجہ ذیل ہیں: عمر: 14 سال۔فرقہ: خوجا۔ گزشتہ تعلیمی  قابلیت: درجہ چہارم گجراتی؛ فیس معاف یا ادائیگی کی جائے گی: ادا کی جائے گی۔ وغیرہ
سیریل نمبر 178 کے ساتھ دوسرا اندراج ہے کہ جناح 23 ستمبر، 1887 ء کو سندھ مدرسہ الاسلام میں داخل ہو ئے ۔یہاں ان کی پیدائش 20 اکتوبر، 1875 درج ہے، اور ان کی پچھلی قابلیت: درجہ اول انجمن اسلام بمبئی
9 فروری، 1891 کو ہونے والی تیسری انٹری نے ان کی تفصیلات کچھ یوں   ہے: نام: محمد علی جناح بھائی؛ جائےپیدائش : کراچی؛  پیدائش کی تاریخ: 20 اکتوبر، 1875؛ فرقہ: خوجہ؛ پچھلی اہلیت: درجہ چہارم ؛ فیس معاف یا ادائیگی کی: ادائیگی کی.
اسکول کے ریکارڈوں میں آخری دو اندراجات 25 دسمبر، 1876 جناح کی سرکاری سالگرہ ہونے کے بارے میں شکوک جنم دیتے ہیں. لیکن قائد ڈے کے انعقاد کے حوالے سے الانا کے دعویٰ کے مقابل سرکاری دعوی25 دسمبر کو تقویت  کے لئے بھی ثبوت موجود ہے.
مثال کے طور پر، سوراجنی نایڈو جو جناح کی سوانح حیات  لکھنے والی پہلی مصنف ہے، انھوں نے ایک اتحاد کا سفیر محمد علی جناح: ان کی تقریریں اور تحر یریں  1912-1917 ء اس ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ 25 دسمبر واقعی جناح کی سالگرہ ہے. نائڈو نے جناح کے پاسپورٹ کا حوالہ دیا۔ لیکن یہاں بھی ایک قباحت ہے کیوں کہ پاسپورٹ پر تاریخ ِپیدائش 1875 لکھی ہے جبکہ عام طور پر ان کا سالِ پیدائش1876 بیان کیا جاتا ہے۔ لہٰذا  ایک ہی وقت میں اتنا بڑا اختلاف  نا قابلِ فہم ہے کہ ان کا حقیقی یومِ پیدائش کیا ہے لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جناح ہمیشہ اپنی  سالگرہ  25 دسمبر کو ہی مناتے تھے۔ لیکن ان کے کچھ دستیاب پاسپورٹ پر تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1875 ہی درج ہے۔

 لہٰذا اس سے یہ نتیجہ  اخذ کیا جا سکتا ہے ک بعد ازاں انہوں نے خود اپنا یومِ پیدائش تبدیل کروایا ہو۔
quaid e azam, jinnah, muhammad ali jinnah, pakistan, 25 december, quaid day,