بدھ، 5 فروری، 2020

یوم یکجہتی کشمیر اور ہماری کشمیر پالیسی.. تحریر انجینئر عمران مسعود

صبح 5 فروری کی خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ آئی ایس پی آر نے ہوم کشمیر کے لیے نیا نغمہ جاری کر دیا. گزشتہ 73 برسوں سے یہ متنازعہ علاقہ اقوام عالم کی توجہ کا خواہاں ہے . اقوام متحدہ میں 18 سے زائد قراردادیں پیش ہو چکی لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے. بلکہ بھارتی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہوتا گیا. اس معاملے میں ہماری حکومتوں کا کردار کیا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 5 فروری 1989 سے لیکر 1991 تک جہاد کشمیر اپنے بام عروج پر ہونے اور آزاد کشمیر میں ہزاروں مجاہدین کی موجودگی کے باوجود حکومت پاکستان کی اس وقت تک کوئی سرکاری کشمیر پالیسی وجود میں نہیں آئی تھی کہ وہ کشمیری مجاہدین کی کس نوعیت اور کس حدتک باقاعدہ مدد کرے۔ اس وقت مرحوم سردار عبدالقیویم خان صدر آزاد کشمیر، سردار سکندرحیات خان وزیر اعظم آزاد کشمیر کی کاوشوں اور پاک آرمی کے باہمی اتفاق سے آپریشن بالا کوٹ کے نام سے کشمیری مجاہدین کو کچھ ہتھیار اور سرسری تربیت کا انتظام کیا گیا تھا۔ حکومت وقت اس دوران گو مگوں کشمیریوں کی کچھ حد تک سفارتی حمایت کررہی تھی مگر باقاعدہ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کی ہرقسم کی مدد کا ابھی تعین نہیں ہوا تھا۔اس وقت ابھی پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی کشمیریوں کی کھل کر حمایت میں نہیں آئی تھیں۔ اس وقت یہ جرأت جماعت اسلامی پاکستان اور اسکے امیر مرحوم قاضی حسین احمدنے نہ صرف جماعت اسلامی پاکستان بلکہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کو مجاہدین کشمیر کی ہر طرح کی دیکھ بھال اور سیاسی و اخلاقی مدد کے لیے متحرک اور منظم طریقے سے مجاہدین کشمیر کے ساتھ جوڑا تھا بلکہ پورے پاکستان میں جہادکشمیر کے لیے آگاہی اور عوامی رابطہ مہم جاری کی تھی حکومت پاکستان اورپاکستانی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اثر ورسوخ سے کشمیریوں کی سیاسی حمایت پر آمادہ کیا تھا اسی سیاسی مدد گاری مہم کا ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ قاضی حسین احمد نے اس وقت کی مسلم لیگی حکومت کو قائل کرلیاکہ کشمیری قوم کا مورال بلند رکھنے اور حکومت پاکستان کی طرف سے خیر سگالی اور حمایت کا بھر پور اظہار کر نے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جائے۔ یوں وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے قاضی حسین احمد کے ہمراہ مظفر آباد کا دورہ کیا ایک سیاسی عوامی جلسہ کیا گیا اور کشمیریوں کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کیا گیا ۔ک پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیا گیا اور ہرسال پانچ فروری کو پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ سرکاری سطح پر اظہار یکجہتی کا عہد کیا گیا۔تب سے لے کر آج تک پاکستان میں بالعموم سب حکومتوں نے مسند اقتدار کی زیب و زینت بنتے ہی کشمیریوں کی عملاً حمایت کی قسم کھائی اور نیم دلانہ حمایت کا عہد کیا۔مگر ہرکسی نے چند حریت رہنماؤں سے ملاقات تک اس عہد کو نبھایا۔ ہر حکومت نے یوم یکجہتی کشمیر ہر سال ۵ فروری کو سرکاری طور پر باقاعدہ طور پر منایا۔عمران خان کی حکومت نے گزشتہ برس ڈی چوک میں یوم یکجہتی کشمیر پر ایک بہت بڑا جلسہ کیا اور وزراء نے کشمیریوں کی حمایت کا دم بھرامگر اپنی پیشرو حکومت کی طرح تذبذب کا شکار رہ کر گزشتہ سال 27 ستمبر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے علاوہ کوئی خاطر خواہ حمایت و یکجہتی کے اقدامات نہ اٹھائے ۔
5 اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد سے جس طرح امید کی جا رہی تھی کہ حکومت کشمیر معاملے پہ اپنا کردار ادا کرے گی لیکن یہ صرف دعوؤں اور تقریبات تک ہی محدود رہا. اس برس بھی 5 فروری کو مظفرآباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا. عالمی سطح پر اس معاملے پہ اجاگر کیا گیا لیکن اس کے بھی کچھ خاطر خواہ اثرات کا نظر آنا بعید از قیاس ہے جب تک کہ اس معاملے کو آئی سی جے میں لے کے نہ جایا جائے اور سرکاری سطح پر اپنی کشمیر پالیسی کو حتمی طور سے واضح کیا جائے.


#Kashmirday  #kashmirsolidarity day,  #5February #Pakistan #kashmeer #kashmiri

جمعرات، 30 جنوری، 2020

توہین رسالت ﷺ کے بڑھتے ہوئے جرائم اور ان کے اسباب..تحریر انجینئر عمران مسعود

تحریر:

انجینر عمران مسعود

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر جنید حفیظ جس کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے. جب اس کی مبینہ گستاخی کی تفصیلات سے آگاہ ہوا تو ایک لمحے کے لیے زمانہ طالب علمی میں چلا گیا جب ہم اپنی یونیورسٹی کے کچھ پروفیسر حضرات کے بارے سنا کرتے تھے کہ ان کے نظریات بہت اوپن ہیں اور اسلامی تعلیمات کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے. ان میں دو مرد اور ایک خاتون پروفیسر شامل تھی. ان میں سرفہرست شعبہ فائن آرٹس کے ایک پروفیسر تھے جن کے بارے تاثر یہی تھا کہ وہ دہریے ہیں. ایک بار فیسبک مسنجر پہ رجوع الااللہ سے متعلق ایک میسج میں نے دوستوں کو بھیجا جو موصوف کو بھی بھیج دیا تو انہوں نے بہت گستاخانہ اور تضحیک آمیز جواب دیا جو کو شان الہی میں گستاخی تھی. جس کا میں نے ان کو جواب دیا لیکن مجھے بلاک کردیا گیا. کچھ عرصہ بعد پتا چلا کہ وہ امریکہ چلا گیا. بہرحال
یہ بات 10 سال پرانی ہے. پچھلے دنوں میں ایک کالم نظر سے گزرا جس میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ہی کے ایک پروفیسر نے انکشاف کیا کہ جنید حفیظ جیسے اور بھی بہت سے پروفیسرہیں جو کہ لادینیت کا شکار ہیں اور اپنے نظریات طلبا کے زہنوں میں ڈالتے رہتے ہیں.
پاکستان کی تمام بڑی جامعات میں ایک کثیر تعداد ان اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کی ہے جو کہ لادینیت کا شکار ہیں. جن پر آئے دن مذہبی طلبا تنظیمیں احتجاج کرتی نظر آتی ہیں مگر افسوس کہ حقائق کو جانے بغیر مذہبی انتہا پسندی کی آڑ لے کر یکطرفہ کاروائی کے نتیجے میں تشدد کی فضا بڑھتی جا رہی ہے.
جنید حفیظ کو پھانسی ہوتی ہے یا نہیں لیکن اس سے قطع نظر میں اس سوچ کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا جس کے نتیجے میں ہمارے قابل ترین اور پڑھے لکھے لوگ الحاد اور لادینیت کا شکار ہو جاتے ہیں. بڑے قابل اور سکالرشپ لینے والے نوجوان جب بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک تعداد مذہب بیزاری اور الحاد کا شکار ہو جاتی ہے.
آج کے دور کی نوجوان نسل کو میڈیا نے اتنا شعور دے دیا ہے کہ وہ سوال کرتی ہے. اپنے سوال کے جواب میں دلیل مانگتی ہے. اور یہی معاملہ ہمارے دین کا بھی ہے.
بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو اسلام اور دین کی تعلیمات سے متنفر ہو رہے ہیں وجہ صرف ہمارے نظام تعلیم میں دین کی نامکمل آگاہی ہے. دین کے مزاج سے نا آشنا ہمارے مسلمان نوجوان جب بیرون ممالک جاتے ہیں جہاں فلسفہ اور منطق بہت شدت سے معاشرے میں رائج ہے. جب اسی پیرائے میں دین کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں تو شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں. اسی طرح کچھ مخصوص اعتراضات جو کہ اسلام اور قرآن سے متعلق ہیں جن کے بارے عام مسلمان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ان کے سامنے آتے ہیں تو ذہنی انتشار میں مبتلا ہونے لگتے ہیں. نتیجتاً کچھ لاشعوری اور چند شعوری طور پر دین بیزار اور الحاد کا شکار ہونے لگتے ہیں. اب چونکہ تمام اسلامی ممالک میں قوانین اس معاملے میں سخت ہیں لہذا اکثر تو خاموش رہتے ہیں لیکن کچھ آوٹ سپوکن ان خیالات کا اظہار کر دیتے ہیں اور نتیجتاً ایک انتشار کی فضا پیدا ہوتی ہے. اور توہین رسالت جیسے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں.
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کو مذہبی انتہا پسندی کے کھاتے ڈال دیا جاتا ہے. یا اگر بہت زیادہ ہو تو یہ مواد ہٹانے اور بلاک کرنے پر اکتفا کر لیا جاتا ہے. لیکن اس سوچ کے آگے بند باندھنے یا دین کی آگاہی سے متعلق کوئی خاطر خواہ اقدامات میڈیا اور حکومت کی طرف سے نظر نہیں آتے. اور یوں معاشرے میں انتشار کی فضا کو ہوا ملتی ہے اور اسلام دشمن عناصر جو پہلے ہی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ ان حالات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہمارے نوجوان لاشعوری طور پر ان کا آلہ کار بننے لگتے ہیں.
آج انہی غفلتوں کے باعث مذہبی اور لبرل طبقہ کی خلیج بڑھتی جارہی ہے. دو انتہائی رویے جنم لے رہے ہیں. ایک طرف مذہبی انتہا پسندی تو دوسری جانب سیکولر اور ملحدانہ سوچ. اور یہ سب صرف آزادیِ رائے کے نام پر ہو رہا ہے.
ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء اور اربابِ اختیار اس مسئلے پر اپنا کردار ادا کریں. ہم نے فرقہ واریت اور شدت پسندانہ رویوں سے بہت نقصان اٹھایا ہے لیکن اب ہم مزید اس کے متحمل نہیں ہو سکتے. اللہ اس قوم پہ اپنا فضل کرے اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




#junaidhafeez #blasphemy #religiousthoughts #extremist #extremism #junaidhafeezcase



بدھ، 18 دسمبر، 2019

آدھا سچ اور متشدد رویے..... تحریر انجینئر عمران مسعود


آدھا سچ ہمیشہ خطرنا ک ہوتا ہے. لیکن یہی آدھا سچ بہت سے لوگوں کے مفاد کا ضامن بھی ہے . معاملہ چاہے سیاسی ,معاشرتی یا مذہبی اسی آدھے کو پیش کرکے اپنے مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔.

بحیثیت طالبعلم مذہبی اختلافات پہ تحقیق کا آغاز کیا تو ایک وقت کے بعد اتنا تذبذب کا شکار ہوا کہ کچھ سمجھ نہ آئے. یوں لگتا جیسے دونوں ہی سچ بول رہے ہیں لیکن دماغ کہتا تھا کہ آخر کوئی تو غلط ہوگا اور کوئی صحیح. جب فریقین کے دلائل کو پرکھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو پورا سچ ہی مفقود ہے. کیونکہ اگر پورا سچ جانیں تو آدھے سچ سے ماخوذ نتائج کے منافی موقف سامنے آجاتا ہے. بہرحال اس معاملے میں بہت سے علماء ایسے بھی ہیں جو پورے سچ کے ساتھ مکمل تصویر پیش کرتے ہیں. اس آدھے سچ کے ذریعے فریق مخالف کو غلط ثابت کرنے کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں متشدد رویے جنم لیے اور ان رویوں کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگت رہا ہے۔.

سیاسی معاملات میں بھی دیکھ لیں تو یہی صورتحال تظر آتی ہے. اپنے سیاسی مخالف کے منفی پہلو تو پیش کرتے لیکن مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے یا اس کی بھی اپنے موقف کے مطابق تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. یہی رویہ فریق مخالف کا بھی ہوتا ہے. نتیجہ معاشرے میں تصادم کی صورت میں نکلتا ہے۔.

گویا ایک ایسی ذہنیت تیار کی جاتی ہے جس کے مطابق آپ کا فریق مخالف ہمیشہ غلط ہو گا.

حالیہ دنوں ہونے والے دو واقعات اسی آدھے سچ کا نتیجہ ہیں. ایک پی آئی سی لاہور حملہ دوسرا اسسٹنٹ کمشنر اٹک کا معا ملہ. حالانکہ ایک ذی شعور آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی واقعہ کے محرکات ضرور ہوتے ہیں لہذا کسی فریق کو بری الذمہ قرار دینا نا انصافی ہے. میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاتا کیونکہ یہ موضوع نہیں ہے.

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر اٹک کے معاملے میں دلی دکھ ہوا کہ ہم نے معاشرے کو کیا سوچ دی ہے... اگر بولنے والے نوجوان کے خلاف کاروائی ہوتی تو وہ مجاہد ملت قرار دیا جاتا اور بہت سے مفاد پرست طبقے خوب عوام کو استعمال کرتے جبکہ دوسری جانب ان محترمہ کی جو ہتک ہوئی اس کے نتیجے میں دوسرا طبقہ مذہبیت کو تنقید کو نشانہ بنا رہا ہے.

اسی طرح دہشت گردی کی وجہ سے اس ملک نے جتنا نقصان اٹھایا وہ بھی اس آدھے سچ کا پیش خیمہ ہے. نتیجتاً مذہبی اور لبرل طبقہ وجود میں آیا. یہ دو طبقات ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے کیونکہ ایک ذہنیت وجود میں آچکی ہے کہ آپ کا فریق مخالف ہمیشہ غلط ہے. اس کی عقل پہ پردہ ہے. اور ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی دوڑ میں سیکولرازم کی سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے.اس سے بڑھ کر کہ سیکولرازم نے تو صرف مذہب کو عبادت تک محدود کیا لیکن الحاد نے تو مذہب کے وجود کا ہی انکار کر دیا. اور ان کے پاس دالائل میں وہی آدھے سچ ہیں جو ہمارے اکابر اور قائدین بیان کرتے ہیں.

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا سچ عوام کو بتانا ہو گا اس سے قطع نظر کہ آپ کے مخالف کو اس سے حمایت ملتی ہے یا نہیں. کیونکہ اکثر مسائل تو دونوں پہلو واضح کرنے سے حل ہو جاتے ہیں. آدھا سچ ہمیشہ دو مختلف نتائج دیتا ہے لیکن پورا سچ ایک ہی نتیجہ پہ لے آتا ہے. یہی دین اسلام کی بھی تعلیم ہے اور یہی معاشرے میں شدت پسندی کے خلاف بند باندھ کے امن کا ضامن ہے.


Assistant commissioner attock, blasphemy, attock

اتوار، 16 دسمبر، 2018

سقوط ڈھاکہ پرحمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کیوں عوام سے پوشیدہ رکھی گئی

تحریر
انجینئر عمران مسعود 

61دسمبر 1971 کے سانحہ کو ہوے ایک عرصہ بیت گیا جب ملک پاکستان کا وہ بازو ہم سے الگ ہوا جہاں سے قیام پاکستان کی تحریک نے آل انڈیا مسلم لیگ کی شکل میں 1906 میں جنم لیا۔
یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس کا زخم. آج بھی تازہ ہے.۔مگر اس کے اسباب کیا تھے اس سے عام پاکستان کو ایک طویل عرصہ تک لاعلم رکھا گیا۔
میجر راجہ نادر پرویز کہتے ہیں کہ 17 دسمبر کی صبح وہ محاذ پر موجود تھے کہ ایک بھارتی کرنل اپنی جیپ میں آیا اور ان سے مخاطب ہوکر بولا کہ آپ ابھی تک یہاں ہیں جبکہ جنگ تو ختم ہو چکی اور ڈھاکہ میں ہتھیار پھینک دینے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کسی قسم کے احکامات موصول نہیں ہوے لہذا ہم آخری دم تک لڑیں گے۔
اس سے بڑھ کر اور کیا عجیب بات ہو سکتی ہے کہ دشمن کا ایک جوان ہمارے جوان کو خبر دے رہا ہو کہ سرنڈر ہو چکا ہے اور آپ ابھی تک محاذ پر موجود ہو. اہل عقل و دانش کے لیے اشارہ ہے کہ کتنا بڑا گھناؤنا کھیل پس پردہ کھیلا گیا۔
سانحہ کے اسباب کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے اپنی سفارشات پیش کیں مگر وہ رپورٹ کیا تھی اس کو 18 سال تک پوشیدہ رکھا کیا۔

یہ بھی پڑہیے۔پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی کوشش

آخر کار جب یہ رپورٹ ایک بھارتی ہفت روزہ India Today کے اگست 2000 کے شمارے میں شائع ہوئی تو ایک انکشافات کے سلسلے نے جنم لے لیا. سانحہ کے 29 سال بعد اس رپورٹ کا شائع ہونا کسی تشویش سے کم نہیں تھا۔ ایک اہم سوال کا جنم لینا فطرتی تھا کہ یہ رپورٹ بھارت کیسے پہنچی اور اب تک پو شیدہ کیوں رکھی گئی. یہ سوال ابھی تک تشنہ طلب ہے۔
تک کہا جاتا رہا کہ اس میں کچھ پردہ نشہنوں کے نام ہیں جس کی وجہ سے اس رپورٹ کو شائع نا کیا جا سکا۔حتی کہ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس رپورٹ کی کوئی کاپی موجود نہیں۔اس سے قبل خان لیاقت علی کا قتل اور ضیاالحق طیارہ کیس کی رپورٹ تا حال منظر عام پر نہ آ سکی۔یوں لگتا جیسے مجرم حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں یا خود اقتدار کے مزے لینے والے کچھ عناصر اس کا حصہ رہے۔یہ تو بہر حال ایک تلخ داستان ہے۔
دسمبر 1990 کو مشاہد حسین کے حوالے سے دی نیشن میں جب حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ چھپی تو ایک بار پھراس موضوع پر گفتگو کا آغاز ہوا۔ حمود الرحمن کمیشن نے چھ جرنیلوں کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی تھی جن میں جنرل یحییٰ خان,  جنرل عبدالحمید, لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ,  میجر جنرل عمر,  لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور جنرل مٹھا شامل ہیں۔
ان پر فیلڈ مارشل ایوب خان سے اقتدار چھیننے کے لیے سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا   ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان افسروں کا مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں محاذوں پر مجرمانہ غفلت برتنے پر بھی کورٹ مارشل کیا جائے اور مقدمہ چلایا جائے۔

آسیہ بی بی کو کیوں رہا کیا گیا اور عالمی طاقتیں کتنا دباؤ دال رہی ہیں۔ یہ بھی پڑہیں

اس پر ردعمل میں جنرل ریٹائرڈ گل حسن نے دعوی کیا کہ  وہ ہر قسم کے مقدمات اور کورٹ مارشل کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ اس کے بقیہ کرداروں یعنی مجیب الرحمن, ذوالفقار علی بھٹو, یحییٰ خان اور جنر حمید کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ یہ رپورٹ ایک افسانہ اور قیاس آرائی سے بڑھ کر کچھ نہیں کیونکہ بھٹو مرحوم کے دور میں یہ رپورٹ پھاڑ دی گئی ۔
ایک اخباری انٹرویو میں جب ان سے اس سانحہ میں بھٹو کے کردار پر سوال کیا گیا تو ان کو کہنا تھا کہ اگر بھٹو اس میں ملوث نہ ہوتے تو وہ اس رپورٹ کو تمام سربراہان کو بھیجتے اور اگر فوج ملوث نہ ہوتی تو ضیاالحق کمیشن کے سامنے پیش ہوتے۔ انہوں نے مزید واضح کیا تھا اس کمیشن نے ان سے چار گھنٹے تک سوالات کیے تھے جن کے انہوں نے جوابات دیے. بعد ازاں اس کا مسودہ ٹایپ شدہ حالت میں پڑھنے کے لیے ان کو فراہم کیا گیا جو انہوں نے پڑھ کر واپس کر دیا تھا مگر اب یہ رپورٹ اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں. جو کچھ بھی اب کہا جا رہا ہے وہ محض افسانہ یا قیاس آرائی ہے۔اس رپورٹ پر مفصل تجزیہ اور کرداروں کی تفصیل  طارق اسماعیل ساگر کی کتاب"حمودالرحمن کمیشن رپورٹ آخری سگنل کی کہانی " میں مل جائے گی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہآج اس رپورٹ کے پیش ہوے 36 برس کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ماضی کے تمام کمیشن رپورٹوں کی طرح یہ بھی قصہ ماضی بن چکا ہے.


16 december, saqoot e dhaka, east pakistan , hamood urehman conission zulfiqar ali bhutto,

منگل، 4 دسمبر، 2018

قرآنی انسائیکلوپیڈیا ایک عظیم کارنامہ



حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جن کے متعلق حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ آپ میری امت کے سب سے بڑے عالمِ قرآن ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میرے اونٹ کی رسی بھی گم ہو جائے تو میں قرآن سے معلوم کر لیتا ہوں۔ گویاقرآن مجید وہ معجزاتی کتاب ہے جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔حال ہی میں قرآن کا انسائیکلو بیڈیا منظرِ عام پر آیا  جو کہ ایک  عظیم علمی کاوش ہے۔
بلاشبہ اللہ تعالٰی جب اپنے دین کا کام لینا چاہتے ہیں تو کسی کو منتخب کر کے اس سے عظیم کام لے لیتے ہیں ۔قرآنی انسائیکلوپیڈیا وہ ایک عظیم کارنامہ جس کا سہرا ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے سر ہے۔ اس سے قبل ان کی  تقریباً 551 تصانیف مختلف موضوعات پر چھپ چکی ہیں۔قرآنی انسائیکلوپیڈیا بلاشبہ امت مسلمہ کی تاریخ میں پہلی بار مرتب ہوا ہے۔ اس سے قبل قرآن کی سینکڑوں تفاسیر چھپ چکی ہیں مگر قرآن کے مضامیں کو ابواب کی شکل میں ترتیب دینے کا کام پہلی مرتبہ ہوا ہے۔اگرچہ اسلام360 کے نام سے اینڈرائیڈ ایپلی کیشن ایک پاکستانی نوجوان  زاہد چھیپا کی کاوش سے کچھ برس قبل ہی  متعارف ہوئی تھی جس کے اندر قرآن کے بہت سے مضامین تشنہ طلب  تھے جس کی کمی ڈاکٹر صاحب کے اس  انسائیکلو پیڈیا نے پوری کر دی ہے۔


بائیبل کے کونسے حصے آج بھی محفوظ ہیں؟؟؟ پڑہیے

اس  تصنیف کا تعارف ڈاکٹر صاحب نے اس سال عالمی میلاد کانفرنس میں کروایا تھا۔اس کتاب میں  کم و بیش پانچ ہزار موضوعات کا احاطہ کیا گیااور یہ تصنیف آٹھ جلدوں پر محیط ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوے انہوں نے بتایا کہ ہر موضوع پر انہوں نے تمام آیات کو باب کے اندر بمعہ سرخیوں کے ترتیب دیا تاکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا جس موضوع پر پڑہنا چاہے اسے قرآن کی تمام آیات جو مختلف مقامات پر وارد ہوئی ہیں اس ایک موضوع پر مل جائیں . اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ قرآن فہمی اور بھی آسان ہو جائے گی خصوصاً محقیقین کے لیے قرآن فہمی کی نئی جہتیں متعارف ہوں گی۔
اس انسائیکلوپیڈیا کی خوبی یہ ہے کہ ہر موضوع کا جواب صرف قرآنی آیت اور اس کے ترجمہ سے دیا گیا ہے.۔تاکہ اختصار ملحوظ خاطر رہے جبکہ اس موضوع سے متعلقہ آیات ایک جکہ مجتمع ہونے سے موضوع کا فہم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ آیات کا ترجمہ عرفان القرآن سے لیا گیا ہے جو کہ بذات خود ڈاکٹر صاحب کا ترجمہِ قرآن ہے۔

یہ بھی پڑہیے۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ ؑنہ کی تاریخ شہادت میں اختلاف کی حقیقت کیا ہے۔۔۔۔

اس تصنیف کی تقریبِ رونمائی حال ہی میں ایوان اقبال میں منعقد ہوئی۔جہاں مختلف علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شمولیت کی اور اس کاوش کو سراہا۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ حدیث کے انسائیکلوپیڈیا پر بھی کام کر رہے ہیں جو اگلے سال ربیع الاول تک مکمل ہو جائے گا۔حدیث کا انسائیکلوپیڈیا تقریباً پچیس جلدوں پر مشتمل ہو گا۔




qurani encyclopedia, doctor tahir ul qadri new book, minhajulquran books, tahirul qadri qurani encyclopedia,  

ہفتہ، 1 دسمبر، 2018

بائیبل کے کونسے حصے آج بھی محفوظ ہیں؟؟؟

قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے  اہل یہود کے بارے میں فرمایا ہے کہ انھوں نے اللہ کے کلام میں تحریفات کر دیں۔ کچھ حصے آج بھی با ئیبل کے محفوظ ہیں ۔ ان محفوظ حصوں کے بارے بات کرنے سے قبل پہلے  کلامِ مجید سے سمجھتے ہیں کہ کن مقاصد کے حسول کے لیے تحریف کی گئی۔ جیسا کہ ارشاد ہے
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ﴿سورہ بقرۃ)
"اے مسلمانو! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔ "قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو  واضح کیا کہ  جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ) 5 ۔ المائدہ:13 ) یعنی ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے ۔


حضرت لقمان کون تھے۔ قرآن نے ان کا زکر کیوں کیا؟؟؟


 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ سننے کو فرمایا اس سے مراد حضرت موسیٰ کے صحابیوں کی وہ جماعت ہے جنہوں نے آپ سے اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سننے کی درخواست کی تھی اور جب وہ پاک صاف ہو کر روزہ رکھ کر حضرت موسیٰ کے ساتھ طور پہاڑ پر پہنچ کر سجدے میں گر پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انیں اپنا کلام سنایا جب یہ واپس آئے اور نبی اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بنی اسرائیل میں بیان کرنا شروع کیا تو ان لوگوں نے اس کی تحریف اور تبدیلی شروع کر دی ۔
سدی فرماتے ہیں ان لوگوں نے توراۃ میں تحریف کی تھی یہی عام معنی ٹھیک ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے اور اس بدخصلت والے دوسرے یہودی بھی ۔ قرآن میں ہے فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ یعنی مشرکوں میں سے کوئی اگر تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سنے بلکہ قرآن سنے تو یہاں بھی کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے ۔


یہ تحریف کرنے والے اور چھپانے والے ان کے علماء تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف ان کی کتاب میں تھے ان سب میں انہو نے تاویلیں کر کے اصل مطلب دور کر دیا تھا اسی طرح حلال کو حرام ، حرام کو حلال ، حق کو باطل ، باطل کو حق لکھ دیا کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے آیت ( وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:72 ) یعنی اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا ایمان والوں پر جو اترا ہے اس پر دن کے شروع حصہ میں ایمان لاؤ پھر آخر میں کفر کرو تاکہ خود ایمان والے بھی ا    س دین سے پھر جائیں ۔ یہ لوگ اس فریب سے یہاں کے راز معلوم کرنا اور انہیں اپنے والوں کو بتانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے مگر ان کی یہ چالاکی نہ چلی اور یہ راز اللہ نے کھول دیا جب یہ یہاں ہوتے اور اپنا ایمان اسلام و ظاہر کرتے تو صحابہ ا ن سے پوچھتے کیا تمہاری کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت وغیرہ نہیں؟ وہ اقرار کرتے ۔ جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹتے اور کہتے اپنی باتیں ان سے کہہ کر کیوں ان کی اپنی مخالفت کے ہاتھوں میں ہتھیار دے رہے ہو؟


اسکندر اعظم کے بارے میں قرآن میں کیا ذکر آیا.

 مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ والے دن یہودیوں کے قلعہ تلے کھڑے ہو کر فرمایا اے بندر اور خنزیر اور طاغوت کے کے عابدوں کے بھائیو! تو وہ آپس میں کہنے لگے یہ ہمارے گھر کی باتیں انہیں کس نے بتا دیں خبردار اپنی آپس کی خبریں انہیں نہ دو ورنہ انہیں اللہ کے سامنے تمہارے خلاف دلائل میسر آ جائیں گے اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گو تم چھپاؤ لیکن مجھ سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی تم جو چپکے چپکے اپنوں سے کہتے ہو کہ اپنی باتیں ان تک نہ پہنچاؤ اور اپنی کتاب کی باتیں کو چھپاتے ہو تو میں تمھارے اس برے کام سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ تم جو اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو ۔ تمہارے اس اعلان کی حقیقت کا علم بھی مجھے اچھی طرح ہے ۔
اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔   بخاری 7362
چنانچہ اس ضمن  میں مولانا مودودی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ موجودہ بائیبل میں زبور کے نام سے جو کتاب پائی جاتی ہے وہ ساری کی ساری زبور داؤد نہیں ہے ۔ اس میں بکثرت مزامیر دوسرے لوگوں کے بھی بھر دیے گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے مصنفین کی طرف منسوب ہیں ۔ البتہ جن مزامیر پر تصریح ہے کہ وہ حضرت داؤد کے ہیں ان کے اندر فی الواقع کلام حق کی روشنی محسوس ہوتی ہے ۔ اسی طرح بائیبل میں امثال سلیمان علیہ السلام کے نام سے جو کتاب موجود ہے اس میں بھی اچھی خاصی آمیزش پائی جاتی ہے اور اس کے آخری دو باب تو صریحاً الحاقی ہیں ، مگر اس کے باوجود ان امثال کا بڑا حصہ صحیح و برحق معلوم ہوتا ہے ۔ ان دو کتابوں کے ساتھ ایک اور کتاب حضرت ایوب علیہ السلام کے نام سے بھی بائیبل میں درج ہے ، لیکن حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود ، اسے پڑھتے ہوئے یہ یقین نہیں آتا کہ واقعی حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف اس کتاب کی نسبت صحیح ہے ۔ ۔ اس لیے قرآن میں اور خود اس کتاب کی ابتدا میں حضرت ایوب علیہ السلام کے جس صبر عظیم کی تعرف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس وہ ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے ، حتٰی کہ ان کے ہمنشین انہیں اس امر پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ خدا ظالم نہیں ہے ، مگر وہ کسی طرح مان کر نہ دیتے تھے ۔


کتاس راج تالاب کی گہرائی لا محدود؟؟ جنرل الیگزینڈر کن نگھم کی تحقیق کے مطابق کتنی گہرائی ہے؟؟


 ان صحیفوں کے علاوہ بائیبل میں انبیاء بنی اسرائیل کے ۱۷ صحائف اور بھی درج ہیں جن کا بیشتر حصہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ خصوصاً یسعیاہ ، یرمیاہ ، حزقی ایل ، عاموس اور بعض دوسرے صحیفوں میں تو بکثرت مقامات ایسے آتے ہیں جنہیں پڑھ کر آدمی کی روح وجد کرنے لگتی ہے ۔ ان میں الہامی کلام کی شان صریح طور پر محسوس ہوتی ہے ۔ ان کی اخلاقی تعلیم ، ان کا شرک کے خلاف جہاد ، ان کو توحید کے حق میں پر زور استدلال ، اور ان کی بنی اسرائیل کے اخلاقی زوال پر سخت تنقیدیں پڑھتے وقت آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اناجیل میں حضرت مسیح کی تقریریں اور قرآن مجید اور یہ صحیفے ایک ہی سرچشمے سے نکلی ہوئی سوتیں ہیں ۔

bible, quran, holly bible, holy Quran, jews,