منگل، 9 اکتوبر، 2018

حضرت لقمان کون تھے۔ قرآن نے ان کا زکر کیوں کیا؟؟؟


حضرت لقمان نبی تھے یا نہیں؟ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے ۔ حضرت جابر سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا حضرت لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے نبی تھے ۔ سعد بن مسیب فرماتے ہیں آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے ۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی آپ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے تئیں حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضور رسالت پناہ کے غلام تھے ۔ حضرت مجع جو جناب فاروق اعظم کے غلام تھے اور حضرت لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے ۔ حضرت خالد ربعی کا قول ہے کہ حضرت لقمان جو حبشی غلام بڑھی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا بکری ذبح کرو اور اس کے دو بہترین اور نفیس ٹکڑے گوشت کے میرے پاس لاؤ ۔ وہ دل اور زبان لے گئے کچھ دنوں بعد ان کے مالک نے کہاکہ بکری ذبح کرو اور دو بدترین گوشت کے ٹکڑے میرے پاس لاؤ آپ آج بھی یہی دو چیزیں لے گئے مالک نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ بہترین مانگے تو بھی یہی لائے گئے اور بدترین مانگے گئے تو بھی یہی لائے گئے یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی عضو نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر سبب سے بد تر بھی یہی ہیں ۔ 

اسکندر اعظم کے بارے میں قرآن میں کیا ذکر آیا. پڑہیے

حضرت مجاہد کا قول ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے نیک بندے تھے ۔ سیاہ فام غلام تھے موٹے ہونٹوں والے اور بھرے قدموں والے اور بزرگ سے بھی یہ مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے ۔ ایک اور قول ہے کہ آپ حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے ۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جر میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایاکرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا ؟ فرمایا سچ بولنے اور بیکار کلام نہ کرنے سے ۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بےنفع کاموں کو چھوڑ دینا ۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے ۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے ۔ انبیاء کرام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے ۔ اسی لئے جمہور سلف کا قول ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے ۔ ہاں حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ آپ نبی تھے لیکن یہ بھی جب کے سند صحیح ثابت ہوجائے لیکن اسکی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں ۔ واللہ اعلم ۔ کہتے ہیں کہ حضرت لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسحاس کا غلام نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں ۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں ۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہی کہ پھر وہ کیا ہے ؟ کہ تیری مجلس پر رہتی ہے ؟ لوگ تیرے دروازے پر آتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں ۔ 

کالا باغ ڈیم پر صوبہ سندھ کے تحفظات اور ان کی حقیقت. پڑہیے

آپ نے فرمایا سنو بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کرلو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤگے ۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو ۔ زبان بیہودہ باتوں سے روک لو ۔ مال حلال کھایاکرو ۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو ۔ زبان سے سچ بات بولا کرو ۔ وعدے کو پورا کیا کرو ۔ مہمان کی عزت کرو ۔ پڑوسی کا خیال رکھو ۔ بےفائدہ کاموں کو چھوڑ دو ۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے ۔ ابو داؤد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضرت لقمان حکیم کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے قبیلے والے نہ تھے ۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھیں ۔ وہ خوش اخلاق خاموش غور و فکر کرنے والے گہری نظر والے دن کو نہ سونے والے تھے ۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے نہ پاخانہ پیشاب اور غسل کرتے تھے لغو کاموں سے دور رہتے ہنستے نہ تھے جو کلام کرتے تھے حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا جس دن ان کی اولاد فوت ہوئی یہ بالکل نہیں روئے ۔ وہ بادشاہوں امیروں کے پاس اس لئے جاتے تھے کہ غور و فکر اور عبرت ونصیحت حاصل کریں ۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی ۔ حضرت قتادۃ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ حضرت لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پُر حکمت برسادی گئی اور رگ وپے میں حکمت بھر دی گئی ۔ صبح کو ان کی سب باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں ۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی ؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنادیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھاجاتا ۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں ۔ اس لئے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا ۔ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے واللہ اعلم ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں حکمت سے مراد اسلام کی سمجھ ہے ۔ حضرت لقمان نہ نبی تھے نہ ان پر وحی آئی تھی پس سمجھ علم اور عبرت مراد ہے ۔ ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے ۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر ۔ شکر گذار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپناہی بھلاکرتا ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ 44؀ۙ ) 30- الروم:44 ) نیکی والے اپنے لئے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں ۔ یہاں فرمان ہے کہ اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اسکی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بےپرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بےنیاز ہے ساری زمین والے بھی اگر کافر ہوجائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ہم اس کے سواکسی اور کی عبادت نہیں کرتے ۔

کوہاٹ میں مزدور کوئلے کی کان میں دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ دیکھیں کان کے اندر کا ماحول. کیسے جان ہتھیلی پہ رکھ کر کام کرتے ہیں یہ لوگ.. پڑہیے

لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی ۔ شعرائے جاہلیت ، مثلاً امراؤ القیس ، لَبِید ، اَعْشیٰ ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا ۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اولین شخص جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا ۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا ۔ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوت اسلام دیتے پھر رہے تھے ۔ اس سلسلہ میں سُوید نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے ۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ۔ یہ بہت اچھا کلام ہے ، مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے ۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے ( سیر ۃ ابن ہشام ، ج ۲ ، ص ٦۷ ۔ ٦۹ ۔ اُسُد الغابہ ، ج ۲ ، صفحہ ۳۷۸ ) مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص ( سُوَید بن صامت ) مدینہ میں اپنی لیاقت ، بہادری ، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر کامل کے لقب سے پکارا جاتا تھا ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدت بعد جنگ بعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا ۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہو گیا تھا ۔ تاریخی اعتبار سے لقمان کی شخصیت کے بارے میں بڑے اختلافات ہیں ۔ جاہلیت کی تاریک صدیوں میں کئی مدَوَّن تاریخ تو موجود نہ تھی ۔

جب ایک مصری نے حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کی ذات پر اعتراض کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کیاا جواب دیا. پڑہیے

 معلومات کا انحصار ان سینہ بسینہ روایات پر تھا جو سینکڑوں برس سے چلی آ رہی تھیں ۔ ان روایات کی رو سے بعض لوگ لقمان کو قوم عاد کا ایک فرد اور یمن کا ایک بادشاہ قرار دیتے تھے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے انہی روایات پر اعتماد کر کے ارض القرآن میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قوم عاد پر خدا کا عذاب آنے کے بعد اس قوم کے جو اہل ایمان حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھ بچ رہے تھے ، لقمان انہی نسل سے تھا اور یمن میں اس قوم نے جو حکومت قائم کی تھی ، یہ اس کے بادشاہوں میں سے ایک تھا ۔ لیکن دوسری روایات جو بعض اکابر صحابہ و تابعین سے مروی ہیں اس کے بالکل خلاف ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ لقمان ایک حبشی غلام تھا ۔ یہی قول حضرت ابو ہریرہ ، مُجاہِد ، عکْرِمَہ اور خالد الربعی کا ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ وہ نُوبہ کا رہنے والا تھا ۔ سعید بن مُسَیِّب کا قول ہے کہ وہ مصر کے سیاہ رنگ لوگوں میں سے تھا ۔ یہ تینوں اقوال قریب قریب متشابہ ہیں ۔ کیونکہ عرب کے لوگ سیاہ رنگ لوگوں کو اس زمانہ میں عموماً حبشی کہتے تھے ، اور نُوبہ اس علاقہ کا نام ہے جو مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال میں واقع ہے ۔ اس لیے تینوں اقوال میں ایک شخص کو مصری ، نُوبی اور حبشی قرار دینا محض لفظی اختلاف ہے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے ، پھر روض الانف میں سُہَیلی اور مُرُوج الذَّہَب میں مسعودی کے بیانات سے اس سوال پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس سوڈانی غلام کی باتیں عرب میں کیسے پھیلیں ۔ ان دونوں کا بیان ہے کہ یہ شخص اصلاً تو نُوبی تھا ، لیکن باشندہ مَدْیَن اور اَیلَہ ( موجودہ عَقَبہ ) کے علاقے کا تھا ۔ اسی وجہ سے اسکی زبان عربی تھی اور اس کی حکمت عرب میں شائع ہوئی ۔ مزید براں سُہَیلی نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ لقمان حکیم اور لقمان بن عاد دو الگ الگ اشخاص ہیں ۔ ان کو ایک شخصیت قرار دینا صحیح نہیں ہے ( روض الانف ، ج۱ ، ص۲٦٦ ۔ مسعودی ، ج۱ ۔ ص۵۷ ) ۔ یہاں اس بات کی تصریح بھی ضروری ہے کہ مستشرق دیر نبورگ ( Derenbours ) نے پیرس کے کتب خانہ کا ایک عربی مخطوطہ جو امثال لقمان الحکیم ( Fables De Loqman Le Sage ) کے نام سے شائع کیا ہے وہ حقیقت میں ایک موضوع چیز ہے جس کا مجلّٔہ لقمان سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے ۔ یہ امثال تیرھویں صدی عیسوی میں کسی شخص نے مرتب کی تھیں ۔ اس کی عربی بہت ناقص ہے اور اسے پڑھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ دراصل کسی اور زبان کی کتاب کا ترجمہ ہے جسے مصنف یا مترجم نے اپنی طرف سے لقمان حکیم کی طرف منسوب کر دیا ہے ۔ مستشرقین اس قسم کی جعلی چیزیں نکال نکال کر جس مقصد کے لیے سامنے لاتے ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کسی طرح قرآن کے بیان کردہ قصوں کو غیر تاریخی افسانے ثابت کر کے ساقط الاعتبار ٹھہرا دیا جائے ۔ جو شخص بھی انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں لقمان کے عنوان پر ہیلر ( B. Heller ) کا مضمون پڑھے گا اس سے ان لوگوں کی نیت کا حال مخفی نہ رہے گا ۔
بحوالہ  1۔تفسیر ابن کثیر
       2۔تفسیر مودودی

hazrat luqman, luqman hakeem, luqman, quran, hakeem luqman


اتوار، 7 اکتوبر، 2018

اسکندر اعظم کے بارے میں قرآن میں کیا ذکر آیا.


زوالقرنین جن کا ذکر قرآن میں بادشاہ اور فاتح کے طور پر آیا ہے ان کے بارے عموماً یہ رائے دی جاتی ہے کہ اس سے مراد سکندر اعظم ہے مگر تاریخی حوالے اس سے مطابقت نہیں رکھتے.  چنانچہ مولانا مودودی اس کی تفصیل بیان کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ ذوالقرنین جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے ، کون تھا ۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا ، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں ۔ جدید زمانے میں تاریخی معلومات کی بنا پر مفسرین کا میلان زیادہ تر ایران کے فرماں روا خورس ( خسرو یا سائرس ) کی طرف ہے ، اور یہ نسبۃً زیادہ قرین قیاس ہے ، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھیرایا جا سکتا ۔ قرآن مجید جس طرح اس کا ذکر کرتا ہے اس سے ہم کو چار باتیں وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں : 1 ) ۔ اس کا لقب ذو القرنین ( لغوی معنی دو سینگوں والا ) کم از کم یہودیوں میں ، جن کے اشارے سے کفار مکہ نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا تھا ، ضرور معروف ہونا چاہیے ۔ اس لیے لا محالہ ہمیں یہ معلوم کرنے کے لیے اسرائیلی لٹریچر کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کہ وہ دو سینگوں والے کی حیثیت سے کس شخصیت یا سلطنت کو جانتے تھے ۔ 2 ) ۔ وہ ضرور کوئی بڑا فرمانروا اور فاتح ہونا چاہیے جس کی فتوحات مشرق سے مغرب تک پہنچی ہوں ، اور تیسری جانب شمال یا جنوب میں بھی وسیع ہوئی ہوں ۔ ایسی شخصیتیں نزول قرآن سے پہلے چند ہی گزری ہیں اور لامحالہ انہی میں سے کسی میں اس کی دوسری خصوصیات ہمیں تلاش کرنی ہوں گی ۔ 3 ) ۔ اس کا مصداق ضرور کوئی ایسا فرمانروا ہونا چاہیے جس نے اپنی مملکت کو یاجوج و ماجوج کے حملوں سے بچانے کے لیے کسی پہاڑی درے پر ایک مستحکم دیوار بنائی ہو ۔ اس علامت کی تحقیق کے لیے ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ یاجوج و ماجوج سے مراد کونسی قومیں ہیں ، اور پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے علاقے سے متصل کونسی ایسی دیوار کبھی دنیا میں بنائی گئی ہے اور وہ کس نے بنائی ہے ۔ 4 ) ۔ اس میں مذکورہ بالا خصوصیات کے ساتھ ایک یہ خصوصیت بھی پائی جانی چاہیے کہ وہ خدا پرست اور عادل فرمانروا ہو ، کیونکہ قرآن یہاں سب سے بڑھ کر اس کی اسی خصوصیت کو نمایاں کرتا ہے ۔ ان میں سے پہلی علامت آسانی کے ساتھ خورس پر چسپاں کی جا سکتی ہے ، کیونکہ بائیبل کے صحیفہ دانی ایل میں دانیال نبی کا جو خواب بیان کیا گیا ہے اس میں وہ یونانیوں کے عروج سے قبل میڈیا اور فارس کی متحدہ سلطنت کو ایک منڈھے کی شکل میں دیکھتے ہیں جس کے دو سینگ تھے ۔ یہودیوں میں اس دو سینگوں والے کا بڑا چرچا تھا کیونکہ اسی کی ٹکر نے آخر کار بابل کی سلطنت کو پاش پاش کیا اور بنی اسرائیل کو اسیری سے نجات دلائی ( تفہیم القرآن سورہ بنی اسرائیل ، حاشیہ 8 ) دوسری علامت بڑی حد تک اس پر چسپاں ہوتی ہے ، مگر پوری طرح نہیں ۔ اس کی فتوحات بلا شبہ یہ مغرب میں ایشیائے کوچک اور شام کے سواحل تک اور مشرق میں با ختر ( بلخ ) تک وسیع ہوئیں ، مگر شمال یا جنوب میں اس کی کسی بڑی مہم کا سراغ ابھی تک تاریخ سے نہیں ملا ہے ، حالانکہ قرآن صراحت کے ساتھ ایک تیسری مہم کا بھی ذکر کرتا ہے ، تاہم اس مہم کا پیش آنا بعید از قیاس نہیں ہے ، کیونکہ تاریخ کی رو سے خورس کی سلطنت شمال میں کا کیشیا ( قفقاز ) تک وسیع تھی ۔ تیسری علامت کے بارے میں یہ تو قریب قریب متحقق ہے کہ یاجوج و ماجوج سے مراد روس اور شمالی چین کے وہ قبائل ہیں جو تاتاری منگولی ، ھُن اور سیتھین وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں اور قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملے کرتے رہے ہیں ۔ نیز یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے حملوں سے بچنے کے لیے قفقاز کے جنوبی علاقے میں دربند اور دار بال کے استحکامات تعمیر کیے گئے تھے ۔ لیکن یہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ خوس ہی نے یہ استحکامات تعمیر کیے تھے ۔ آخری علامت قدیم زمانے کے معروف فاتحوں میں اگر کسی پر چسپاں کی جاسکتی ہے تو وہ خورس ہی ہے ۔ کیونکہ اس کے دشمنوں تک نے اس کے عدل کی تعریف کی ہے اور بائیبل کی کتاب عزْرا اس بات پر شاہد ہے کہ وہ ضرور ایک خدا پرست اور خدا ترس بادشاہ تھا جس نے بنی اسرائیل کو ان کی خدا پرستی ہی کی بنا پر بابل کی اسیری سے رہا کیا اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لیے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا حکم دیا ۔ اس بنا پر ہم یہ تو ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ نزول قرآن سے پہلے جتنے مشہور فاتحین عالم گزرے ہیں ان میں سے خورس ہی کے اندر ذو القرنین کی علامات زیادہ پائی جاتی ہیں ، لیکن تعین کے ساتھ اسی کو ذو القرنین نہیہں قرار دیا جا سکتا. لیکن دوسری جانب کوئی اور فاتح اس کا مصداق بھی نہیں جتنا خورس ہے. بہرحال تاریخی حوالوں سے یاد رہے کہ خورس ایک ایرانی فرمانروا تھا جس کا عروج 549ق م میں شروع ہوا. اس نے چند سالوں میں ہی میڈیا اور لیڈیا (ایشیائے کوچک ) کے علاقوں کو فتح کرکے 539ق.م میں بابل کا علاقہ بھی فتح کر لیا. پھر کوئی  بھی قوت اس کے سامنے ٹہر نہ پاتی تھی اس کی سلطنت کی حدود سندھ اور تکستان سے لیکر دوسری جانب مصر اور لیبیا تک تو دوسری جانب تھریس اور مقدونیہ تک وسیع تھیں. اور شمال میں اس کی سلطنت کا دائرہ کاکیشیا  اور خوارزم تک پھیلا ہوا تھا. گویا پوری مہذب دنیا اس کے تابع فرمان تھی

جمعرات، 4 اکتوبر، 2018

کالا باغ ڈیم پر صوبہ سندھ کے تحفظات اور ان کی حقیقت.


کالاباغ ڈیم حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی کی پیداوار و زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے ایک بڑا  منصوبہ تھا جو تاحال متنازع ہونے کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کے لیے منتخب کیا گیا مقام کالا باغ تھا جو ضلع میانوالی میں واقع ہے۔ ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ یاد رہے کہ ضلع میانوالی پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ تھا جسے ایک تنازع کے بعد پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔
کالاباغ ڈیم کا منصوبہ اس کی تیاری کے مراحل سے ہی متنازع رہا ہے۔ دسمبر 2005ء میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے  اعلان کیا تھا کہ، “وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالاباغ بند تعمیر کر کے رہیں گے“۔ جبکہ 26 مئی 2008ء کو اس وقت کے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے ایک اخباری بیان میں کہا، “کالاباغ بند کبھی تعمیر نہ کیا جائے گا“ انھوں نے مزید کہا، “صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور دوسرے متعلقہ فریقین کی مخالفت کی وجہ سے یہ منصوبہ قابل عمل نہیں رہا
صوبہ سندھ جس نے کالا باغ منصوبے کی سب سے پہلے مخالفت  کی اور تا حال اس کی مخالفت کر رہا ہے.  اس منصوبہ سے متاثر ہونے والا اہم فریق ہے۔ اگرچہ صوبہ سندھ اس منصوبہ کی کٹر مخالفت کرتا ہے لیکن اس کا نقطہ نظر “پنجاب  کے ہاتھوں پانی کی چوری“ کے نظریہ پر قائم ہے۔ اس نظریہ کی انتہائی حمایت صوبہ سندھ میں دیکھنے میں آتی ہے لیکن کسی بھی طرح سے اس چوری کو ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ صوبہ سندھ دراصل تاریخی لحاظ سے دریائے سندھ پر اپنا حق تسلیم کرتا ہے اور  عوامی رائے میں دریائے سندھ پر صوبے کا حق تاریخ اور اس کے نام سے عیاں ہے۔ تربیلہ بند اور منگلا بند کی تعمیر کو صوبہ سندھ دراصل پنجاب کے ہاتھوں پانی چوری کا نقطہ سمجھتے ہوئے اب کالا  باغ بند کی تعمیر کی اجازت دینے سے انکار کرتا آیا ہے، جس کی قیمت سندھ کی زرعی زمین کی تباہی کی صورت میں ادا کرنی پڑی  ہے۔ اس کلیدی نقطہ کے علاوہ صوبہ سندھ اس منصوبہ کی مخالفت میں مندرجہ زیل نکات پیش کرتا ہے،

صوبہ سندھ کے مطابق کالا باغ بند میں ذخیرہ ہونے والا پانی صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کی زرعی زمینوں کو سیراب کرے گا جبکہ یہی پانی سندھ کی زرعی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ عالمی قانون برائے تقسیم پانی کی رو سے دریائے سندھ پر صوبہ سندھ کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔
صوبہ سندھ کے ساحلی علاقہ میں دریائے سندھ کا بہنا انتہائی  ضروری ہے تاکہ یہ دریا سمندری پانی کو ساحل کی طرف بڑھنے سے روک سکے۔ اگر دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہوتی ہے تو یہ سندھ کے ساحل اور اس پر موجود جنگلات اور زرعی  زمینوں کو صحرا میں تبدیل کر دے گا۔ یہ نہ صرف ماحول کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ ماحولیاتی رو سے انتہائی نامناسب بھی ہے۔
تربیلہ بند اور منگلا بند کی تعمیر کے بعد صوبہ سندھ میں پانی کی کمی واقع ہوئی ہے جس کا ثبوت کوٹری بیراج اور حیدر آباد میں دریائے سندھ کی موجودہ حالت کا ماضی سے موازنہ کر کے لگایا جاسکتا ہے۔ صوبہ سندھ کو خدشہ ہے کہ دریائے سندھ پر ایک اور  بند کی تعمیر کے نتائج صوبے میں انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
کالا باغ بند زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی خطرناک جگہ پر واقع ہو گا جس کے قریب انتہائی خطرناک فالٹ لائنیں موجود ہیں اور یہیں زیر زمین دراڑیں ذخیرہ کیے گئے پانی کو سمو لیں گی اور بہتے ہوئے دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا جو کسی صورت میں بھی کسی فریق کے لیے سودمند نہیں ہے۔
دریائے سندھ پر تعمیر کیے جانے والے بند پہلے سے ہی کئی  ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں، جن کو ابھی تک وفاقی و صوبائی سطح پر زیر بحث نہیں لایا گیا ہے۔ کالاباغ بند میں جمع ہونے والی ریت کا مسئلہ ماحولیاتی مسائل میں نہ صرف اضافہ کرے گا بلکہ یہ منچھر جھیل اور ہالیجی جھیل میں پانی کی عدم دستیابی کا بھی سبب بنے گا، جس سے آبی حیات کو انتہائی  خطرات درپیش ہوں گے۔
گو سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور  دوسرے قومی و صوبائی راہنماؤں نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ صوبہ سندھ کو پانی میں پورا حصہ ملے گا مگر یہ یقین دہانیاں صوبہ سندھ کے لیے کافی نہیں ہیں۔ صوبہ سندھ یہ سمجھتا ہے کہ 1991ء میں ہونے والے دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے معاہدے  جس کی تصدیق آئینی کمیٹی نے کی تھی، اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا، یعنی صوبہ پنجاب دراصل دریائے سندھ کے پانی کی  چوری کا مرتکب ہوا ہے۔
کالا باغ بند بارے صوبہ سندھ میں عوامی رائے انتہائی ناہموار ہے۔ صوبہ سندھ کی قوم پرست سیاسی جماعتیں اور پارلیمانی سیاسی جماعتیں بشمول متحدہ قومی موومنٹ اور حکمران  جماعت متفقہ طور پر اس منصوبہ کی مخالفت کرتی ہیں۔ اُن جماعتوں کا وفاق سے مطالبہ ہے کہ اس صورت حال میں کالا باغ بند کی تعمیر بارے اپنی رائے پر نظر ثانی کرے کیونکہ یہ صوبہ سندھ میں نقض امن اور وفاق سے علیحدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
Kalabagh,  dam,  pppp,  pti dam fund, 

جمعرات، 20 ستمبر، 2018

واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر از مولانا اسحاق مرحوم

Karbala, imam hussain,,, kafir, sunni, shis

موبائل فون استعمال کرنے کے آداب. سنئے قاسم علی شاہ سے

کوہاٹ میں مزدور کوئلے کی کان میں دب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ دیکھیں کان کے اندر کا ماحول. کیسے جان ہتھیلی پہ رکھ کر کام کرتے ہیں یہ لوگ..


کچھ دن قبل کوہاٹ میں مزدور کوئلے کی کان میں دب کر جاں بحق ہوگئے تھے. ان کی ساری زندگی کان میں ہی گزر جاتی ہے. یہ رپورٹ ان کی زندگی پر بنائی گئی ہے. دیکھیں کان کے اندر کا ماحول. کیسے جان ہتھیلی پہ رکھ کر کام کرتے ہیں یہ
لوگ
coal mines,coal, labour,pakistan, poor, died, accident, kohat, kpk, government, poor